پابلو نرودا کو انیس سو اکہتر میں ادب کا نوبل پرائز ملا۔ پانچ سال بعد امریکی ماہرِ اقتصادیات ملٹن فریڈ مین کو نوبل پرائز دیا گیا۔ پابلو نرودا نے اپنی آخری نظم میں لکھا: ستمبر سن تہتر کے اذیت ناک دنتاریخ کے سارے درندوں نےہمارے پرچمِ زریں کو بڑھ کر نوچ ڈالا ہے نیرودا چلی…