کلارا زیتکن: عورت کے سوال پر

مترجم: شاداب مرتضی

باخوفن، مارگن اور دوسروں کی تحقیقات یہ ثابت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ عورت کا سماجی استحصال نجی ملکیت کی تخلیق کے ساتھ واقع ہوا۔ خاندان میں شوہر کی مالکانہ حیثیت اور بیوی کی غیر مالکانہ حیثیت کے درمیان تفریق عورت کے معاشی انحصار اور سماجی لاقانونیت کی بنیاد بنی۔ یہ سماجی لاقانونیت، اینگلز کے مطابق، طبقاتی حکمرانی کی اولین اور قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔ وہ کہتا ہے:”خاندان (فیملی) میں مرد سرمایہ داراورعورت مزدور ہے۔” تاہم، جدید معنی میں عورت کا سوال (پرانے زمانے میں) موجود نہیں تھا۔ یہ صرف پروڈکشن کا سرمایہ دارانہ طریقہ تھا جس نے وہ سماجی تبدیلی پیدا کی جو پرانے خاندانی معاشی نظام کو توڑ کر، جس نے سرمایہ داری سے پہلے کے دورمیں عورتوں کی بہت بڑی تعداد کے لیے کفالت اور زندگی کے معنی فراہم کیے، جدید عورت کے سوال کو سامنے لائی۔ تاہم، ہمیں عورت کی قدیم معاشی سرگرمیوں پر ایسے تصورات (فضولیت اور معمولی پن) کا اطلاق نہیں کرنا چاہیے جنہیں ہم اپنے دور میں عورت کی سرگرمیوں سے جوڑتے ہیں۔ جب تک خاندان کی پرانی قسم کا وجود رہا، پیداواری سرگرمی سے عورت کو بامعنی زندگی ملی۔ لہذا، وہ اپنی سماجی لاقانونیت کے بارے میں شعور نہیں رکھتی تھی حالانکہ ایک فرد کے طور پراس کی صلاحیتوں کی ترقی بہت محدود تھی۔

نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا دور طوفان اور دباؤ کا وہ دور تھا جس میں انفرادیت جاگی اوراسے نہایت مختلف قسم کی سمتوں میں پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اس دور میں ہمیں ایسی شخصیات ملتی ہیں جو نیکی اور بدی دونوں میں دیوقامت مقام رکھتی ہیں اور جنہوں نے مذہب اور اخلاقیات دونوں کے احکامات کو دھتکارتے ہوئے جنت اور دوزخ دونوں کی برابر حقارت کی۔ یہاں ہم عورت کو سماجی، فنی اور سیاسی زندگی کے مرکز میں پاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہمیں یہاں عورت کی تحریک کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ یہ بات اس لیے بھی خاص ہے کہ اس وقت پرانا خاندانی معاشی نظام محنت کی تقسیم کے اثر سے ڈھیر ہونا شروع ہوگیا تھا۔ ہزارہا عورتوں کو اب اپنی کفالت اور زندگی کے معنی اپنے خاندان میں ملنا بند ہوگئے۔ لیکن عورت کا یہ سوال، جہاں تک کہ اسے ایسا سوال کہا جا سکے، اس زمانے میں عہدناموں، خیراتی اداروں اور مذہبی احکامات سے حل کیا گیا۔

مشینوں نے، پروڈکشن کے جدید نظام نے، گھریلو پیداوار کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کیا اور صرف ہزاروں عورتوں کے لیے نہیں بلکہ دسیوں لاکھوں عورتوں کے لیے یہ سوال نمودار ہوا:ہم اپنی زندگی کے وسائل اب کہاں تلاش کریں؟ اب ہم اپنی زندگی کے معنی اور کام کہاں تلاش کریں؟ دسیوں لاکھوں عورتیں اب اس بات پر مجبور ہوئیں کہ اپنی زندگی کے وسائل اور معنی کو خاندانوں سے باہر اور سماج میں بحیثیتِ مجموعی تلاش کریں۔ اس لمحے وہ اس حقیقت سے آشنا ہو گئیں کہ ان کی سماجی لاقانونیت ان کے بنیادی ترین مفادات سے ٹکراؤ میں ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے ہم کچھ اعدادوشمار دیتے ہیں کہ پروڈکشن کا جدید نظام کس طرح عورت کے سوال کو اور زیادہ شدید بنانے کا کام کرتا ہے۔ 1882ء میں، جرمنی میں 23 ملین میں سے 5.5 ملین عورتوں اور لڑکیوں کے پاس مکمل ملازمت تھی؛ یعنی عورتوں کی آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو اپنی کفالت کے وسائل اپنے خاندانوں میں نہیں مل رہے تھے۔ 1895ء کی آدم شماری کے مطابق، زراعت (ایگریکلچر) میں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد، اس لفظ کے وسیع ترین معنی میں، 1882ء کے مقابلے میں 8 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے، اور محدود ترین معنی میں 6 فیصد، جبکہ اسی دوران زراعت میں کام کرنے والے مردوں کی تعداد 3 فیصد کم ہوگئی ہے، یعنی 11 فیصد ہے۔ صنعت اور کان کنی میں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد 35 فیصد بڑھی ہے اور مردوں کی تعداد صرف 28 فیصد۔ ریٹیل ٹریڈ میں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد میں 94 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور مردوں کی تعداد میں صرف 38 فیصد۔ یہ خشک اعداد و شمارعورت کے سوال کو حل کرنے کی فوری ضرورت پر اس سے کہیں زیادہ زور دیتے ہیں جتنا کہ بلند وبانگ دعوے اور جذباتی تقریریں۔

تاہم، عورت کا سوال سماج کے صرف انہی طبقوں میں موجود ہے جو خود پروڈکشن کے سرمایہ دارانہ طریقے کی پیداوار ہیں۔ اسی لیے ہم عورت کا سوال ان کسان حلقوں میں نہیں پاتے جن کی معیشت فطری ہے (حالانکہ یہ معیشت انتہائی گھٹ چکی ہے اور اس میں کئی سوراخ ہوگئے ہیں). لیکن ہم عورت کا سوال سماج کے ان طبقوں میں ضرور پاتے ہیں جو پروڈکشن کے جدید طریقے سے پیدا ہونے والے بچے ہیں۔ عورت کا سوال مزدور طبقے، سرمایہ دار، دانشور اور “اوپری دس یزار” کے لیے ایک سوال ہے۔ یہ سوال مختلف پرتوں کی طبقاتی صورتحال کے مطابق مختلف شکل اختیار کرتا ہے۔

جہاں تک “اوپری دس ہزار” لوگوں کا تعلق ہے تو یہ سوال کیا شکل اختیار کرتا ہے؟ “اوپری دس ہزار” پرت کی عورت اپنی ملکیت کے طفیل اپنی انفرادیت کو آزادانہ ترقی دے سکتی ہے اور جیسے چاہے زندگی بسر کر سکتی ہے۔ تاہم، بیوی کے کردار میں وہ ہنوز اپنے شوہر پر انحصار کرتی ہے۔ صنفِ نازک کی سرپرستی خاندانی قانون میں اب تک باقی ہے جو کہتا ہے: اوروہ تمھارا آقا ہو گا(مترجم:عرصہ پہلے یہ قانون بھی ختم ہوچکا)۔ اور”اوپری دس ہزار” لوگوں میں خاندان کس طرح تشکیل ہوا ہے کہ جس میں بیوی قانونی طور پر شوہر کی محکوم ہے؟ اپنی بنیاد میں ہی ایسا خاندان اخلاقی شرائط سے عاری ہے۔ اس میں انفرادیت نہیں بلکہ پیسہ عروسیت کو طے کرتا ہے۔ اس کا نصب العین ہے: جسے ملکیت جوڑتی ہے اخلاقیات کو اسے الگ نہیں کرنا چاہیے (شاندار!)۔ لہذا، اس طرح کی شادی میں دو جسم فروشیاں ایک نیکی کی جگہ لے لیتی ہیں۔ خاندانی زندگی بالآخراسی طرح بسر ہوتی ہے۔ جہاں کہیں بھی عورت کو اپنے فرائض ادا کرنے پرمجبور نہیں کیا جاتا وہاں وہ شریکِ حیات، ماں اور گھریلو بیوی کے طور پر اپنے فرائض تنخواہ دار ملازموں کے سر ڈال دیتی ہے۔ اگر ان حلقوں کی عورتوں میں اپنی زندگی کو سنجیدہ مقصد دینے کی خواہش ہے تو انہیں سب سے پہلے، لازما، اپنی جائیداد کو آزادی اور خودمختاری کے ساتھ طے کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اس لیے یہ مطالبہ “اوپری دس فیصد” پرت کی عورتوں کی جانب سے کیے جانے والے مطالبوں کی بنیاد کی نمائندگی کرتا ہے۔ اپنے طبقوں کے مردوں کے مقابلے میں اپنے مطالبوں کو منوانے میں وہ بالکل وہی لڑائی لڑتی ہیں جو سرمایہ داروں نے تمام مراعات یافتہ جاگیروں وغیرہ کے خلاف لڑی تھی: یعنی، جائیداد کی ملکیت پر مبنی تمام تفریق کے خاتمے کی لڑائی۔ یہ حقیقت کہ یہ مطالبہ فرد کے حقوق سے تعلق نہیں رکھتا ریشٹاگ (جرمن پارلیمنٹ) میں جناب وان اسٹرم کی جانب سے اس کی وکالت کرنے سے ثابت ہوتی ہے۔ جناب وان اسٹرم شخصی حقوق کی وکالت کب کریں گے؟ یہ شخص جرمنی میں ایک شخصیت سے بڑھ کر مقام رکھتا ہے، یہ سرمایہ ہے جس نے خود کو گوشت اور خون میں ڈھال لیا ہے (یہ بات کس قدر درست ہے!) اور اگر اس شخص نے عورتوں کے حقوق کے لیے دکھاوا کرنے کی خاطر گھٹیا بھیس بدل لیا ہے تو یہ صرف اس لیے ہوا ہے کہ وہ سرمائے کے عہدنامے کے سنہری صندوق کے سامنے ناچنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ یہ وہی جناب وان اسٹرم ہیں جو اپنے مزدوروں کو انگلیوں پر نچانے کے لیے ان کا راشن کم کرنے پر ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور اگر حکومت بھی آجر کی حیثیت سے ان پروفیسروں اور اسکالروں کا راشن کم کر دے جو سماجی سیاست میں ٹانگ اڑاتے ہیں تو وہ مطمئن مسکراہٹ کے ساتھ اس فیصلے کو خوش امدید کہیں گے۔ جناب وان اسٹرم کی کوشش اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ عورت کی وراثت کے معاملے میں منقولہ جائیداد پرعورت کے حق کو قانونی شکل دے دیں کیونکہ ایسے باپ موجود ہیں جن کے پاس ملکیت ہے لیکن جو بچوں کے انتخاب میں لاپرواہ تھے اورانہوں نے وارثوں میں صرف بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ جب بات دولت کی وراثت کی ہو تو سرمایہ داری “نیچ” عورت ذات کو بھی یہ اعزاز دینے پر تیار ہے۔ یہ نجی ملکیت کی نجات کا آخری مرحلہ ہے۔

عورت کا سوال پیٹی بورژوا، مڈل کلاس اور دانشور حلقوں میں کس شکل میں ابھرتا ہے؟ یہاں ملکیت خاندان کو تحلیل نہیں کرتی بلکہ سرمایہ دارانہ پروڈکشن سے ہم آہنگ علامات اس کی اہم وجہ ہیں۔ جس حد تک یہ پروڈکشن اپنی فاتحانہ پیش قدمی پوری کرتی ہے، مڈل کلاس اور پیثی بورژوا طبقہ اسی قدر دھکے کھاتے ہوئے اپنی تباہی کی جانب بڑھتے ہیں۔ سرمایہ دار دانشوروں میں ایک اور حالت حالات زندگی کی بدتری کی طرف لے جاتی ہے: سرمایہ داری کو ذہین اور سائنسی تربیت یافتہ ورک فورس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اس نے ذہنی کام کرنے والے مزدوروں کی اضافی پیداوار کی طرفداری کی اور اس مظہر کی تشکیل میں حصہ لیا کہ ہنرمند (پروفیشنل) طبقے کے لوگوں میں پہلے عزت دار اور منافع بخش سمجھی جانے والی سماجی حیثیتیں زیادہ سے زیادہ ادھڑ رہی ہیں۔ تاہم، اسی حد تک، شادیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے؛ حالانکہ ایک طرف مادی بنیاد بدتر ہو رہی ہے، دوسری طرف زندگی سے فرد کی توقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ایسا پس منظر رکھنے والا شادی کرنے سے پہلے دو یا تین بار سوچے گا۔ فیملی بنانے کی عمر کی حد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جاتی ہے اور مرد پر شادی کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے دور میں ایسے کافی سماجی ادارے موجود ہیں جو پرانے کنوارے کو جائز بیوی کے بغیر آرام دہ زندگی کی پیشکش کرتے ہیں۔ فاقہ کش اجرت کے زریعے مزدور طبقے کی قوت محنت کا سرمایہ دارانہ استحصال یہ بات یقینی بناتا ہے کہ مردوں کے مطالبات کی موافقت میں جسم فروش عورتوں کی فراوانی موجود ہو۔ سو، سرمایہ دار حلقوں میں غیرشادی شدہ عورتوں کی تعداد ہر وقت بڑھتی رہتی ہے۔ ان حلقوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو سماج میں دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی کفالت کا انتظام خود کریں جس سے نہ صرف انہیں روٹی میسر آئے گی بلکہ ذہنی سکون بھی ملے گا۔ ان حلقوں میں عورتیں نجی ملکیت کے مالکوں کی شکل میں مرد کے برابر نہیں ہیں جس طرح وہ اوپری حلقوں میں ہیں۔ ان حلقوں کی عورتوں کو ابھی مردوں کے ساتھ اپنی معاشی برابری حاصل کرنا ہے اور ایسا وہ صرف دو مطالبوں کے زریعے کر سکتی ہیں: مساوی پروفیشنل ٹریننگ کا مطالبہ اور دونوں صنفوں کے لیے ملازمت کے مساوی مواقعوں کا مطالبہ۔ معاشی طور پر اس کا مطلب اس سے کم کچھ اور نہیں کہ تمام ملازمتوں تک آزاد رسائی حقیقت بن جائے اور مرد اور عورت کے درمیان کھلی مقابلے بازی (کمپٹیشن) ہو۔ اس مطالبے کا حقیقت میں ڈھلنا سرمایہ دار اور دانشور حلقوں کی عورتوں اور مردوں کے مابین مفادات کے ٹکراؤ کو بے لگام کر دیتا ہے۔ پروفیشنل دنیا میں عورتوں کی مقابلہ بازی عورتوں کے سرمایہ دارانہ حقوق کے علمبرداروں کے مطالبوں کے خلاف مردوں کی مزاحمت کی قوتِ محرکہ ہے۔ یہ، صاف اور خالص، مقابلہ بازی ہے۔ عورتوں کے ذہنی کام کے خلاف دیگر جن وجوہات کی فہرست بنائی جاتی ہے، جیسے کہ عورتوں کا چھوٹا دماغ یا ان کے ماں بننے کا مبینہ فطری مشغلہ وغیرہ، محض بہانے ہیں۔ مقابلہ بازی کی یہ جنگ ان پرتوں کی عورتوں کو اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ کرنے کی جانب دھکیلتی ہے تاکہ وہ سیاسی طور پر لڑتے ہوئے ان تمام رکاوٹوں کو توڑ ڈالیں جو ان کی معاشی سرگرمی کے خلاف کھڑی کی گئی ہیں۔

اب تک میں نے اپنی گفتگو میں خود کو بنیادی اور خالصتا معاشی ڈھانچے تک محدود رکھا ہے۔ تاہم، ہم عورتوں کے حقوق کی سرمایہ دارانہ تحریک کو محض معاشی تحریک قرار دے کر اس کے ساتھ انصافی کریں گے۔ نہیں، اس تحریک میں ایک زیادہ گہرا روحانی اور اخلاقی پہلو بھی ہے۔ سرمایہ دار عورت نہ صرف اپنی روٹی کا مطالبہ کرتی ہے بلکہ وہ اپنی روحانی پرورش کا تقاضا بھی کرتی ہے اور اپنی انفرادیت کو ترقی دینا چاہتی ہے۔ اسی پرت میں ہمیں المناک، لیکن نفسیاتی طور پر دلچسپ نورا جیسی شخصیتیں ملتی ہیں، ایسی عورتیں جو گڑیوں کی طرح گڑیا گھروں میں رہنے سے تھک چکی ہیں اورجو جدید کلچرکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہیں۔ عورتوں کی سرمایہ دارانہ تحریک کے مدافعین کی معاشی اوراس کے ساتھ ساتھ دانشورانہ اوراخلاقی کاوشیں مکمل طور پرجائز ہیں۔

جہاں تک مزدورعورت کا تعلق ہے، تو یہ سرمائے کی استحصال کرنے کی ضرورت اور سستی قوت محنت کی انتھک تلاش ہے جس نے عورت کے سوال کو پیدا کیا ہے۔ اسی وجہ سے مزدورعورت ہمارے دور کی معاشی زندگی کے میکنزم میں گھل گئی ہے اور ورکشاپ اورمشینوں کی طرف دکھیل دی گئی ہے۔ وہ معاشی زندگی میں اس لیے داخل ہوئی کہ زیست کرنے میں اپنے شوہر کی مدد کرسکے، لیکن پروڈکشن کے سرمایہ دارانہ نظام نے اسے ایک ناجائز مقابلہ باز میں بدل دیا۔ وہ اپنے خاندان میں خوشحالی لانا چاہتی تھی، لیکن اس کے برعکس اس پرمصیبت نازل ہوتی ہے۔ مزدورعورت نے اپنا روزگار خود حاصل کیا کیونکہ وہ اپنے بچوں کی زندگی کو سنہری اورخوشگوار بنانا چاہتی تھی لیکن اس کے برعکس وہ ان سے تقریبا مکمل طور پر جدا ہوگئی۔ ایک مزدور کے طور پر وہ مرد کے برابرہوگئی؛ مشینوں نے جسمانی قوت کو سطحی بنا دیا اورہر جگہ عورت کے کام نے پروڈکشن میں وہی نتیجہ دیا جو مرد کا کام دیتا ہے۔ اورچونکہ عورت سستی قوت محنت فراہم کرتی ہے اورسب سے بڑھ کر ایک محکوم قوتِ محنت ہے جو شاذونادر ہی سرمایہ دارانہ استحصال کے کانٹوں کو ٹھوکر مارتی ہے، اس لیے سرمایہ دار صنعت میں عورتوں کی مزدوری کے امکانات کومستقل بڑھاتا رہتا ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ مزدور عورت نے خودمختاری حاصل کرلی ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ قیمت بہت زیادہ ہے اور اب تک انہوں نے بہت کم حاصل کیا ہے۔ اگر “خاندان کے زمانے” میں ایک مرد کو یہ حق تھا (زرا صرف الیکٹورل بویریا کا تصور کریں!) کہ اپنی بیوی کو بوقتِ ضرورت کوڑے مار کر سدھائے، تو سرمایہ اسے بچھوؤں سے سدھا رہا ہے۔ پچھلے زمانوں میں، ایک مرد کی اپنی بیوی پرحکمرانی کا ازالہ اس کا زاتی تعلق کرتا تھا۔ لیکن ایک آجراوراس کے مزدور کے درمیان صرف نقدی کا رشتہ ہے۔ مزدورعورت نے اپنی معاشی خودمختاری حاصل کرلی ہے لیکن نہ ہی ایک انسان کے طور پراور نہ ہی ایک عورت یا بیوی کے طور پر اس کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنی انفرادیت کو پروان چڑھائے۔ ایک بیوی اورماں کا فرض ادا کرنے کے لیے اس کے پاس صرف روٹی کے وہ ٹکڑے ہیں جو سرمایہ دارانہ پروڈکشن اپنی میز سے گراتی ہے۔

لہذا، مزدورعورت کی جہدِ آزادی اس جیسی نہیں ہوسکتی جو سرمایہ دارعورت اپنے طبقے کی حکمرانی کے خلاف کرتی ہے۔ اس کے برعکس، یہ ایک مشترکہ جدوجہد ہونا چاہیے اپنے طبقے کے مرد کے ساتھ، سرمایہ داروں کے پورے طبقے کے خلاف۔ اسے ان رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے اپنے طبقے کے مردوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت نہیں ہے جنہیں مارکیٹ کے آزاد مقابلے میں اس کی شرکت کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے۔ سرمائے کی استحصالی ضرورت اور پروڈکشن کے جدید طریقے کی ترقی نے اسے مکمل طور پر یہ جدوجہد کرنے سے سبکدوش کردیا ہے۔ اس کے برعکس، مزدورعورت کے استحصال کے خلاف نئی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔ بیوی اور ماں کی حیثیت سے اس کے حقوق کو بحال کرنے اورمستقل طور پر ان کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا حتمی مقصد مردوں کے ساتھ مقابلہ کرنا نہیں بلکہ مزدور طبقے کی سیاسی حکمرانی کو حاصل کرنا ہے۔ مزدورعورت اپنے طبقے کے مرد کے شانہ بشانہ سرمایہ دارانہ سماج کے خلاف لڑتی ہے۔ یقینا، وہ سرمایہ دارعورت کی تحریک کے مطالبوں سے بھی اتفاق کرتی ہے لیکن وہ ان مطالبوں کے پورا ہونے کو محض ایک ایسا زریعہ سمجھتی ہے جو تحریک کو مزدوروں کے ساتھ انہی ہتھیاروں سے مسلح ہو کر لڑائی میں داخل ہونے کے قابل بناتا ہے۔

سرمایہ دارانہ سماج سرمایہ دارعورت کی تحریک کا بنیادی طورپرمخالف نہیں ہے، جو اس حقیقت سے ثابت ہے کہ عورتوں کے حوالے سے پرائیوٹ اورپبلک قوانین کی متعدد ریاستی اصلاحات شروع کی گئی ہیں۔ دو وجوہات ہیں جن کی بنا پرجرمنی میں یہ اصلاحات غیرمعمولی طور پر طویل وقت لیں گی: پہلی یہ کہ لبرل پیشوں میں مقابلہ بازی کی لڑائی سے مرد ڈرتے ہیں، اوردوسری یہ کہ جرمنی میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کی نہایت سست اورکمزور ترقی کو مدنظر رکھنا ہوگا جو اپنے تاریخی فرض پر پورا نہیں اترتی کیونکہ یہ مزدوروں سے طبقاتی خوف کھاتی ہے۔ اسے خوف ہے کہ یہ اصلاحات حقیقت میں ڈھل کر سوشل ڈیموکریسی کو مزید فائدے پہنچائیں گی۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت اس خوف سے جس قدرکم ڈرے گی اسی قدر یہ اصلاحات کرنے پر تیار ہوگی۔ انگلینڈ ایک اچھی مثال ہے۔ انگلینڈ واحد ملک ہے جس کا سرمایہ دار حقیقی معنی میں طاقتور ہے جب کہ جرمن سرمایہ دارمزدوروں کے خوف سے کانپتے ہوئے سیاسی اورسماجی اصلاحات کرنے سے شرماتا ہے۔ جہاں تک جرمنی کا تعلق ہے تو یہاں لکیر کے فقیر بنے رہنے والے خیالات کی بھرمار کا اضافی عنصر بھی شامل ہے۔ تعصب کی یہ لکیر کی فقیر چوٹی جرمن سرمایہ داروں تک جاتی ہے۔ یقینا، سرمایہ دارانہ جمہوریت کا یہ خوف بہت تنگ نظر ہے۔ عورتوں کو سیاسی برابری دینے سے طاقت کا اصل توازن نہیں بدلتا۔ مزدورعورت مزدوروں کے اورسرمایہ دارعورت سرمایہ داروں کے کیمپ میں ہی جاتی ہے۔ ہمیں عورتوں کی سرمایہ دارتحریک میں ان سوشلسٹ رجحانوں سے بیوقوف نہیں بننا چاہیے جو تب تک باقی رہتے ہیں جب تک سرمایہ دارعورت خود کو مظلوم محسوس کرتی ہے۔

سرمایہ دارانہ جمہوریت اپنے فرض کو جس قدر کم سمجھتی ہے، اسی قدر سوشل ڈیموکریسی کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ عورتوں کی سیاسی برابری کی وکالت کرے۔ ہم خود کو اس سے زیادہ بہتر ثابت نہیں کرنا چاہتے جتنا کہ ہم ہیں۔ ہم یہ مطالبہ اصول کی خاطر نہیں کررہے بلکہ مزدور طبقے کے مفاد میں کررہے ہیں۔ عورت کا کام مرد کے معیارزندگی پر جتنا زیادہ برا اثر ڈالتا ہے انہیں معاشی لڑائی میں شامل کرنے کی ضرورت اسی قدرزیادہ ہنگامی ہوجاتی ہے۔ سیاسی جدوجہد ہر فرد کے وجود کو جتنا زیادہ متاثر کرتی ہے، سیاسی جدوجہد میں عورتوں کی شمولیت اسی قدر زیادہ ہنگامی بن جاتی ہے۔ یہ “اینٹی سوشلسٹ قانون” تھا جس نے پہلی بارعورتوں پریہ واضح کردیا کہ طبقاتی انصاف، طبقاتی ریاست اورطبقاتی حکمرانی جیسے الفاظ کا کیا مطلب ہے۔ اسی قانون نے عورتوں کو سکھایا کہ انہیں اس قوت کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے جو اس قدرظالمانہ انداز سے ان کے خاندانوں کی زندگیوں میں دخل اندازی کررہی ہے۔ اینٹی سوشلسٹ قانون نے وہ کامیاب کام کیا ہے جو سینکڑوں خواتین احتجاج کار کبھی نہیں کرسکتی تھیں اور واقعی ہم اینٹی-سوشلسٹ قانون کو بنانے والے اور ریاست کے تمام ستونوں کے شکرگزار ہیں (وزیر سے لے کرمقامی پولیس والے تک) جنہوں نے اسے نافذ کرنے میں حصہ لیا اور اس قدر زبردست غیررضاکارانہ پروپیگنڈہ سروس فراہم کی۔ تو ہم سوشل ڈیموکریٹوں پرپھر کوئی ناشکری کا الزام کیسے لگا سکتا ہے؟

ایک اورواقعہ بھی ہے جس کا احاطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میں آگسٹ بیبل کی کتاب “عورت اورسوشلزم” کی اشاعت کا حوالہ دے رہی ہوں۔ اس کتاب کے بارے میں رائے اس کے مثبت پہلوؤں یا اس کی خامیوں کو مدنظر رکھ کر نہیں دینا چاہیے۔ بلکہ، اس کا فیصلہ ان وقتوں کے تناظر میں رہ کرکرنا چاہیے جن میں یہ لکھی گئی تھی۔ یہ ایک کتاب سے بڑھ کر، ایک واقعہ تھی، یقینا ایک عظیم عمل۔ اس کتاب نے پہلی بار عورت کے سوال اور تاریخی ارتقاء کے درمیان ربط کی نشاندہی کی۔ پہلی بار اس کتاب سے یہ صدا نکلی: ہم مستقبل پر تبھی فتح پا سکیں گے جب ہم عورتوں کو اپنا ساتھی جہد کار بننے پر قائل کرلیں۔ اس کا اعتراف میں ایک عورت کے طور پر نہیں بلکہ ایک پارٹی کامریڈ کے طور پرکررہی ہوں۔

عورتوں میں اپنے پروپیگنڈہ کے کام سے اب ہم کیا عملی نتائج اخذ کرسکتے ہیں؟ اس پارٹی کانگریس کا ہدف تفصیلی عملی تجاویز دینا ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزدورعورتوں کی تحریک کی عمومی سمتوں کا خاکہ کھینچنا ہونا چاہیے۔

ہماری رہنما سوچ یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں ہرگزعورتوں کا خصوصی پروپیگنڈہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ عورتوں میں سوشلسٹ احتجاج کرنا چاہیے۔ زنانہ دنیا کے معمولی، وقتی مفادات کو ہرگز اسٹیج پرآنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔ ہمارا ہدف لازما یہ ہونا چاہیے کہ اپنی طبقاتی جنگ میں جدید مزدورعورت کو شامل کریں۔ عورت میں احتجاج کے لیے ہمارے کوئی خصوصی فرائض نہیں ہیں۔ وہ اصلاحات جن کی تکمیل موجود سماج کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے لازما کرنا چاہیے ان کا مطالبہ ہماری پارٹی کے کم ازکم پروگرام میں پہلے سے کردیا گیا ہے۔

عورتوں کے پروپیگنڈہ کو ان تمام سوالوں کا احاطہ کرنا چاہیے جوعمومی مزدور تحریک کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اہم فریضہ یقینا یہ ہے کہ عورتوں کے طبقاتی شعورکو جگایا جائے اور انہیں طبقاتی جدوجہد میں شامل کیا جائے۔ مزدور عورتوں کی یونین سازی کو بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ 1892ء اور1895ء کے سالوں کے دوران، مرکزی ٹریڈ یونینوں میں منظم مزدورعورتوں کی تعداد بڑھ کرتقریبا 7 ہزار ہوگئی تھی۔ اگراس تعداد میں ہم مقامی یونینوں میں منظم خواتین مزدوروں کو بھی شامل کریں اوراس بات کا ادراک کریں کہ کم ازکم 7 لاکھ مزدورعورتیں بڑے صنعتی اداروں میں سرگرمی سے شامل ہیں تو تب ہم تنظیم کاری کے اس حجم کا احساس کرنا شروع کریں گے جو ابھی ہمارے آگے پڑا ہے۔ ہمارا کام اس حقیقت کی وجہ سے اور بھی بھاری ہوجاتا ہے کہ بہت سی خواتین کاٹیج انڈسٹری میں منظم ہیں اوراس لیے انہیں صرف سخت مشکل کے ساتھ ہی منظم کیا جا سکتا ہے۔ پھرہمیں نوجوان لڑکیوں میں وسیع پیمانے پرموجود اس یقین سے بھی نپٹنا ہے کہ ان کی صنعتی محنت محض وقتی چیز ہے اوران کی شادی کے بعد یہ ختم ہوجائے گی۔ بہت سی عورتوں کو فیکٹری اورگھردونوں جگہ سرگرمی کرنے کی وجہ سے دوہرے فرائض کا سامنا ہے۔ مزدورعورتوں کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ قانونی طورپرطے شدہ، متعین یومِ کار(ورک ڈے) حاصل کریں۔ انگلینڈ میں جہاں ہر کوئی متفق ہے کہ کاٹیج انڈسٹری کو ختم کیا جائے، وہاں قانونی طورپرمتعین یوم کار کا قیام اورزیادہ بڑی اجرتوں کو حاصل کرنا عورتوں کی تنظیم کاری کے لیے اہم اولین شرائط ہیں۔ جرمنی میں، ان رکاوٹوں کے علاوہ، اپنی یونین سازی اوراجتماع کے قوانین کا اطلاق بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ سلطنت کی طرف سے مزدورعورتوں کو مخلوط اتحاد بنانے کی جو مکمل آزادی قانونی ضمانت کے ساتھ دی گئی ہے اسے انفرادی وفاقی ریاستوں کے قوانین نے سراب بنا دیا ہے۔ میں اس طریقے کی بات نہیں کرنا چاہتی جس میں سیکسونی(اگریہاں حق کی بات بھی کی جا سکے تو) میں یونین بنانے کے حق سے برتاؤ کیا جاتا ہے۔ لیکن دو سب سے بڑی وفاقی ریاستوں میں، بویریا اورپروشیا میں، یونین بنانے کے حق سے اس طرح برتاؤ کیا جاتا ہے کہ ٹریڈ یونین تنظیموں میں عورتوں کی شمولیت زیادہ سے زیادہ ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں پروشیا میں، منسٹروان بیننگسن کی ابدی، “لبرل” ڈسٹرکٹ نے یونین سازی اوراجتماع کے قانون میں انسانی طورپرممکن ہر تشریح کو پا لیا ہے۔ بویریا میں تمام عورتوں کو پبلک میٹنگوں سے خارج رکھا جاتا ہے۔ وہاں کے چیمبر میں وان فرائلٹز نے کھلے عام اعلان کیا کہ یونین سازی کے قانون کو برتنے میں نہ صرف قانون کے متن کو بلکہ قانون سازی کرنے والے کی نیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ وان فرائٹلز یہ جاننے کے لیے سب سے زیادہ خوش قسمت پوزیشن میں ہیں کہ وان فرائٹلزکوپولیس کا وزیربنانے میں قانون سازی کرنے والوں کے کیا ارادے کارفرما تھے، جو سب کے سب مرچکے ہیں۔۔۔۔ مجھے اس پرحیرت نہیں ہوتی کیونکہ جس کو بھی اپنا دفترخدا کی طرف سے ملتا ہے وہ اس کے ساتھ ذہانت بھی وصول کرتا ہے، اورہمارے “عہدِ روحانیت” میں جناب وان فرائٹلز نے بھی اپنی سرکاری ذہانت اسی طرح حاصل کی ہے اور چوتھی سمت کے زریعے بہت پہلے مرچکے قانون سازوں کے ارادوں کو دریافت کرلیا ہے۔

تاہم، یہ صورتحال مزدور عورتوں کے لیے یہ بات ممکن نہیں بناتی کہ وہ مردوں کے ساتھ منظم ہو سکیں۔ اب تک انہیں پولیس کی طاقت اورقانونی چالبازیوں کے خلاف لڑنا پڑ رہا ہے اوربظاہر لگتا ہے کہ وہ ہارگئی ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ فتحیاب ہوکرنکلی ہیں کیونکہ مزدورعورتوں کی تنظیموں کوتوڑنے کے تمام اقدامات نے محض ان کے طبقاتی شعور کو ابھارا ہے۔ اگرہم معاشی اورسیاسی میدانوں میں عورتوں کی طاقتورتنظیم قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں لازما سب سے پہلے کاٹیج انڈسٹری کے خلاف لڑتے ہوئے عورتوں کی نقل مکانی کی آزادی (Freedom of Movement) کے امکان کا، کم اوقات کارکا، اورسب سے بڑھ کر، اس کا خیال رکھنا ہوگا جسے حکمران طبقے منظم ہونے کا حق کہتے ہیں۔

اس پارٹی کانگریس میں ہم یہ تعین نہیں کرسکتے کہ عورتوں میں پروپیگنڈہ کرنے کی شکل کیا ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے ہمیں لازما یہ سیکھنا چاہیے کہ ہمیں عورتوں میں کام کس طرح کرنا چاہیے۔ جو قرارداد آپ کے سامنے پیش کی گئی ہے اس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ عورتوں میں سے شاپ اسٹیوارڈ کو منتخب کیا جائے جن کا کام یہ ہوگا کہ وہ عورتوں کی یونین اورمعاشی تنظیموں کو تقویت دیں اورانہیں ہمہ گیر اورمنصوبہ بند انداز سے مستحکم کریں۔ یہ تجویز نئی نہیں ہے؛ اسے بنیادی طورپرفرینکفرٹ کی پارٹی کانگریس میں منظورکیا گیا تھا، اوربعض علاقوں میں اس پرسب سے زیادہ کامیابی سے عملدرآمد کیا گیا ہے۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ یہ تجویزبڑے پیمانے پرمتعارف ہوکراس لائق ہو گی کہ یہ مزدورعورتوں کو وسیع ترسطح پر مزدور تحریک میں کھینچ لائے۔

ہمیں اپنا پروپیگنڈہ صرف زبانی طورپرہرگزنہیں کرنا چاہیے۔ غیرفعال لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہماری میٹنگوں میں نہیں آتی اوربے شمارمائیں اوربیویاں بھی ہماری میٹنگوں میں نہیں آسکتیں۔ یقینا، سوشلسٹ عورتوں میں سوشلسٹ پروپیگنڈہ کا مقصد ہرگزیہ نہیں ہونا چاہیے کہ مزدورعورت کوماں اوربیوی کی حیثیت سے اس کے فرائض سے بیگانہ کردیا جائے۔ اس کے برعکس، مزدورطبقے کی آزادی کے مفاد میں ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ان فرائض کو زیادہ بہتری سے ادا کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس کے لیے خاندان میں حالات جتنے بہترہوں گے، گھرمیں وہ جتنی مؤثرہوگی، جدوجہد کے لیے وہ اسی قدرباصلاحیت ہوگی۔ اپنے بچوں کی تربیت کاراوراستاد کے طورپر وہ جس قدرزیادہ کام کرے گی، وہ انہیں اسی قدر زیادہ روشن خیال بنا سکے گی تاکہ وہ ہماری طرح جدوجہد کو جاری رکھیں، اسی جوش وخروش اوررضامندی سے جو مزدور طبقے کی آزادی کے لیے قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ تب اگرکوئی مزدور پکارتا ہے:”میری بیوی!” تو وہ اپنے ذہن میں اس بات کو شامل کرے گا کہ “میرے مقصد میں شریک ساتھی، میری جدوجہد میں میری رفیق، مستقبل کی جدوجہد کے لیے میرے بچوں کی ماں۔” بہت سی مائیں اور بہت سی بیویاں جو اپنے شوہروں اوربچوں کو طبقاتی شعور دیتی ہیں وہ جدوجہد میں اسی قدرحصہ ڈالتی ہیں جس قدروہ خواتین کامریڈ جوہماری میٹنگوں میں نظرآتی ہیں۔

چنانچہ، اگرپہاڑی محمد تک نہیں آتی تو محمد کوپہاڑی تک جانا چاہیے: ہمیں منصوبہ بند تحریری پروپیگنڈہ کے زریعے سوشلزم کوعورتوں تک لے جانا چاہیے۔ اس طرح کی مہم کے لیے، میں پمفلٹوں کو تقسیم کرنا تجویز کرتی ہوں اورمیرا مطلب روایتی پمفلٹوں سے نہیں ہے جن پرپورا سوشلسٹ پروگرام اور ہماری صدی کی پوری سائنسی تاریخ چارصفحوں میں گھٹا دی جاتی ہے۔ نہیں، ہمیں لازما چھوٹے پمفلٹ استعمال کرنا چاہییں جن میں ایک واحدعملی سوال پرنصب العین کے ایک واحد زاویے سے بات کرنا چاہیے، خصوصا طبقاتی جدوجہد کے نقطہِ نظرسے، جو کہ بنیادی فریضہ ہے۔ اورہمیں پمفلٹوں کی ٹینیکل پروڈکشن کے معاملے میں ہرگزغیرجانبداررویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ ہمیں خراب ترین کاغذ اورخراب ترین پرنٹنگ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ ہماری روایت ہے۔ ایسے خراب پمفلٹوں کو مزدورعورتیں مروڑ کرپھینک دیں گی کیونکہ ان کی نظر میں چھپے ہوئے لفظ کی وہ وقعت نہیں جو مزدورمردوں میں پائی جاتی ہے۔ ہمیں ان امریکی اورانگریزی پمفلٹوں کی نقل کرنا چاہیے جو چار یا چھ صفحوں کے خوبصورت کتابچے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایک مزدورعورت بھی ایک عورت کے بطورخود کو کہہ سکتی ہے:”یہ چھوٹی سے چیزدلکش ہے۔ میں اسے لوں گی اوررکھ لوں گی۔” اہم جملوں کوجلی حروف میں لکھنا چاہیے۔ تب مزدورعورت کو پڑھنے کا خوف نہیں ہوگا اوراس کی ذہنی توجہ کو تقویت ملے گی۔

اپنے زاتی تجربے کی وجہ سے میں عورتوں کے لیے کسی اسپیشل اخبارکو نکالنے کے منصوبے کی طرفداری نہیں کرسکتی۔ میرے زاتی تجربات کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ میں “گلائششٹ” اخبار(جوخواتین عوام کے لیے نہیں بلکہ ترقی پسند ہراول دستے کے لیے بنایا گیا ہے) کی ایڈیٹرہوں، بلکہ اس بات پر ہے کہ میں خواتین مزدوروں میں لٹریچر تقسیم کرتی ہوں۔ میں نے ایک فیکٹری میں کئی ہفتوں تک اخبار تقسیم کیے۔ میں قائل ہوگئی کہ وہاں کی عورتوں نے ان اخباروں سے روشن خیالی نہیں سیکھی، بلکہ صرف تفریحی چیزیں دیکھیں۔ لہذا، ایک سستا اخبار نکالنے کی خاطرجو بڑی قربانیاں ضروری ہیں وہ اس کام کے قابل نہیں ہوں گی۔

لیکن ہمیں بروشرز کی ایک سیریز بھی تخلیق کرنا ہے جو سوشلزم کوعورت کے قریب ترلاتے ہیں، ایک مزدورعورت، بیوی اورماں کی حیثیت سے۔ فراپوپ کے طاقتوربروشر کے سوا ہمارے پاس کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ہمارے تقاضوں کی ضرورت کو پورا کرتا ہو۔ ہماری ڈیلی پریس کو بھی لازما اس سے زیادہ کام کرنا چاہیے جتنا اب تک ہوتا رہا ہے۔ بعض یومیہ اخباروں نے عورتوں کے لیے خصوصی ضمیمے شامل کرکے عورتوں کا شعور بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ “مگدےبرگرواکسٹیمے” اخبار نے اس حوالے سے مثال قائم کی ہے اورکامریڈ گولڈاسٹائن نے، زویکو میں، مہارت اورکامیابی کے ساتھ اس کی نقل کی ہے۔ لیکن اب تک ڈیلی پریس نے مزدورعورتوں کوصرف صارف کے طورپرلیا ہے، اس کی کم علمی، برے اوربھدے ذوق کی خوشامد کرتے ہوئے، بجائے اسے روشن خیال بنانے کی کوشش کرنے کے۔

میں یہ بات دوہراتی ہوں کہ میں آپ کے غوروخوص کے لیے صرف تجاویز دے رہی ہوں۔ عورتوں میں پروپیگنڈہ کرنا مشکل اوربھاری ہے اور اس کے لیے عظیم جذبے اورقربانی کی ضرورت ہے۔ لیکن ان کا صلہ ضرور ملے گا۔ مزدورطبقہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے قابل صرف تبھی ہوگا جب وہ اپنی جدوجہد میں قومیت اورپیشے کے فرق کو مٹا دے گا۔ اسی طرح یہ اپنی آزادی صرف تبھی حاصل کرسکتا ہے جب یہ صنف (سیکس) کے فرق کو بھی مٹا ڈالے۔ مزدوطبقے کی جہد آزادی میں مزدورعورتوں کی بڑی تعداد میں شمولیت سوشلسٹ تصور کی فتح کے لیے اورسوشلسٹ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے ایک اولین شرط ہے۔

صرف سوشلسٹ سوسائٹی ہی اس تنازعے کو حل کرسکتی ہے جسے عورتوں کی پیشہ ورانہ سرگرمی آج کے دورمیں پیدا کرتی ہے۔ ایک بارجب معاشی یونٹ کے طورپرفیملی ختم ہوجائے گی اوراس کی جگہ فیملی ایک اخلاقی یونٹ کے طورپرلے لی گی، توعورت بھی مساوی حقدارہوگی، مساوی تخلیق کارہوگی، مساوی بامقصد ہوگی، اوراپنے شوہرکے لیے قدم آگے بڑھانے والی ساتھی ہوگی؛ اس کی انفرادیت کو جلا ملے گی اوراسی دوران وہ ایک بیوی اورماں کی حیثیت سے اپنے فرض کواعلی ترین ممکن سطح تک نبھائے گی۔

کلارازیتکن: صرف مزدورعورت کے ساتھ ہی سوشلزم کی فتح ہوگی، 1896ء۔

Leave a Comment